ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چنتامنی میں اسمبلی انتخابات کی گہماگہمی شروع؛ کس کو ملے گی کس کی ٹکٹ ؟

چنتامنی میں اسمبلی انتخابات کی گہماگہمی شروع؛ کس کو ملے گی کس کی ٹکٹ ؟

Mon, 28 Aug 2017 16:22:09    S.O. News Service

چنتامنی:28 /اگست(سید اسلم پاشاہ؍ایس او نیوز) پچھلے 2014کے اسمبلی انتخابات کے موقع پر بنگلور  کوندلہلی گاؤں سے سماجی خدمت کے نام پر آکر سماجی خدمت کا آغاز کرکے  جے کے کرشناریڈی نے جنتادل (ایس) سے ٹکٹ حاصل کرلی تھی اور 2013 اسمبلی انتخابات میں چنتامنی حلقے سے کامیاب ہوگئے تھے، اب پھر سے اُسی کوندلہلی گاؤں کے مقیم وینکٹیش ریڈی نامی ایک شخص نے سماجی خدمت کے نام پرچنتامنی سیاسی حلقے میں داخل ہوئے  ہیں اور انہوں نے سماجی خدمت کا آغاز بھی کردیا ہے بتایا جارہا ہے کہ کولار کے رُکن پارلیمان و سابق وزیر کے ہیچ منی اپا نے  وینکٹیش ریڈی کو کانگریس پارٹی سے اسمبلی انتخابات کیلئے حلقے چنتامنی سے کانگریس امیدوار بناکر لڑنے کے لئے میدان میں اُتارا ہے اور اُنہیں کانگریس کی ٹکٹ دلانے کا بھروسہ دلایا ہے۔

 2018کے اسمبلی انتخابات کی تیاریاں ریاست بھر میں اس وقت موضوع بحث ہے،  یہاں پچھلے دو سالوں سے سماجی خدمت کے نام پر ارون بابو تعلقہ کے ہر قریہ میں جاکر اپنے آپ کو یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ اس بات  بی جے پی پارٹی کی طرف سے وہی  امیدوار ہوں گے، اور بی جے پی کی ٹکٹ اُنہیں ہی ملنے والی ہے۔البتہ  ارون بابو کو بی جے پی پارٹی سے ٹکٹ ملنا کافی مشکل معلوم ہوتا ہے کیونکہ سمجھا جارہا ہے کہ بی جے پی کی طرف سے ایک  دوسرا مضبوط امیدوار چنتامنی سے اُتارنے پر غور کیا جارہا ہے۔

اب یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ اگلے انتخابات میں تین بڑی سیاسی پارٹیاں کن کن کو اپنے اُمیدوار منتخب کرکے انتخابی میدان میں اُتارے گی اور کون عوام کی توقعات پر پورے اُترنے میں کامیاب ہوگا۔


Share: